تلنگانہ 27/نومبر(ایس او نیوز)تلنگانہ میں 30 نومبر کو 119 اسمبلی سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہوگی۔جس کو لے کرتمام سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔اس دوران پرانے اور تاریخی شہروں کے نام بدلنے کے لئے ملک بھر میں پہچان بنانے والے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے تلنگانہ میں روڈ شو کے دوران حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کرنے کا اعلان کرڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگر ان کی پارٹی اقتدار پر آتی ہے تو وہ حیدرآباد کا نام تبدیل کرکے بھاگیہ نگر رکھیں گے۔
یوگی ادتیہ ناتھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں پوچھ رہا ہوں حیدر کون ہے؟ کیا ہمیں حیدر کے نام کی ضرورت ہے؟ حیدر کہاں سے آیا؟ اگر ہم اقتدار میں آئے تو ہم ان تمام ناموں کو تبدیل کر دیں گے جو غلامانہ ذہنیت کی علامت ہیں۔
یوگی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ حیدرآباد کا نام بدلنے کا آپ کا خواب خواب ہی رہے گا۔ اویسی نے کہا کہ پہلے ان سے پوچھیں کہ یہ 'بھگیانگر' کہاں سے آیا؟ ان سے پوچھیں کہ یہ کہاں لکھا ہے۔ آپ حیدرآباد سے نفرت کرتے ہیں۔ نام بدلنا اس نفرت کی علامت کیوں ہے؟ حیدرآباد ہماری پہچان ہے، اس کا نام کیسے بدلیں گے؟ وہ صرف نفرت کی سیاست کر رہے ہیں۔
ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یہاں آئے ہیں۔ اس کا پیٹنٹ ڈائیلاگ ہے کہ ہم نام بدل دیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے مزید کہا کہ ارے بھائی، آپ حیدرآباد کا نام نہیں بدل سکتے۔ تمہارا خواب خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ بول رہے ہیں۔ میں ریزرویشن منسوخ کر دوں گا۔ تم ملک پیٹ میں ہار رہے ہو، پہلے یہاں آکر دیکھو۔
اس سے پہلے تلنگانہ کے محبوب نگر میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو محبوب نگر کا نام بدل کر پالامورو کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد سی ایم یوگی نے کمارم بھیم آصف آباد ضلع میں ایک جلسہ عام بھی کیا، جہاں انہوں نے حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کرنے کا اعلان کیا۔
تلنگانہ کی 119 اسمبلی سیٹوں کے لیے 30 نومبر کو ووٹنگ ہونی ہے۔جبکہ ووٹنگ کے نتائج 3 دسمبر کو سامنے آئیں گے۔